ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند :اسلامی شریعت پر عمل کرنے کی جماعت اسلامی کی اپیل

مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند :اسلامی شریعت پر عمل کرنے کی جماعت اسلامی کی اپیل

Tue, 09 Jan 2018 11:02:33    S.O. News Service

گلبرگہ،8؍جنوری(ایس او نیوز) حکومت کی جانب سے طلاقِ ثلاثہ کے نام پر مسلم پرسنل لاء میں جو مداخلت کی کوشش کی گئی ہے اس کو مسلمان کبھی بھی قبول نہیں کر سکتے۔ اسلام کا قانون اللہ کا عطا کردہ ہے جس میں کوئی تبدیلی کسی کی جانب سے نہیں لائی جاستی۔ ان خیالات کا اظہار جناب ذاکر حسین ، امیر مقامی جماعت اسلامی ہند گلبرگہ نے کیا۔ وہ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے عمار فنکشن ہال ایم ایس کی ملز گلبرگہ میں منعقدہ ایک روزہ اجتماع عام میں اختتامی خطاب پیش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بل کے ذریعہ مسلمان عورت کو بے یار ومددگار کر دیا ہے۔جب تین طلاق کی وجہ سے شوہر تو جیل میں ڈالاجاتا ہے تو سوال کیا کہ بیوی اور بچوں کی ذمہ داری کون لیگا۔اجتماع کا آغاز محمد یوسف خان ، رکن جماعت کے درس قرآن سے ہوا۔ سورۃ حم السجدہ کی آیت 30-35 پر درس دیا۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اللہ کو اپنا رب مانا اور اس پر قائم رہے تو اللہ تعلیٰ ان کی مدد ہر حال میں کرتا ہے۔ اللہ کی رضاء کے لئے اس کے احکامات پر جب وہ چلتے ہیں تو جو مشکلات و آزمائشیں آتیں ہیں انہیں جب وہ جھیلتے رہتے ہیں تو فرشتے ان کی مدد کو آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ہر ہال میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہنا چاہئے ۔ جب یہ کام وہ کرتا رہے گا تو جو مخالفت بھی آئے گی اس کو صبر کے ساتھ برداشت کرے۔ سید تنویر ہاشمی، معاون امیر مقامی، اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ جماعت اپنے پیغام کو آم کرنے کے لئے دعوتی اجتماعات کا احتمام کرتی ہے۔ ’’مومن تو بس احکام الٰہی کا ہے پابند‘‘ عنوان پر سید ساجد سلیم، رکن مقامی شوریٰ نے خطاب کیا۔ مومن کی تشریح کرتے پوئے کہا کہ وہ فرد جو اپنی فطرت و عقل کو استعمال کرتے ہوئے کائنات اور خود کے وجود پر غور و فکر کرتا ہے، اپنے مقصد زندگی کی تلاش میں رہتا ہے اور جب اللہ کی طرف سے پیغمبر آتے ہیں تو ان کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے خالق کائنات کی مرضیات کے مطابق اور اس کی رضاء کے لئے زندگی گزارتا ہے تو وہ مومن کہلاتا ہے۔ صحابہ اکرمؓ کی زندگیوں کے واقعات کے ذریعہ انہوں نے کہا کہ کس طرح ایک مومن صرف احکام الٰہی کا پابند ہوتا ہے۔ ’’مسلم پرسنل لاء کا تحفظ کیوں اور کیسے ؟‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے محمد عبد القدوس چنچولی نے کہا کہ انگریزوں کے زمانہ میں اسلامی شریعت میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب اسلامی عائلی نظام میں بھی مداخلت کی کوشش کی تو مسلمان اس کو برداشت نہیں کیا ۔ اس وقت مسلم اپلیکشن ایکٹ وجود میں آیا اوراسی کو آزادی کے باد مسلم پرسنل لاء کانام دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کا تحفظ اس لئے ضروری ہے کہ قانونی طور پر مسلمانوں کو اسلامی شریعت سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا تحفظ اس طرح ہوسکتا ہے کہ سب میں پہلے اس بات کا شعور مسلمانوں میں لانے لئے خطبات جمعہ کا مؤثر اہتمام ہونا چاہئے۔ اور ان میں حالات کی مناسبت سے ملت کی رہنمائی ہونا چاہئے۔ ’’مسلمانوں کے آپسی تعلقات‘‘ عنوان پر ڈاکٹر محمد حبیب الرحمن رکن جماعت نے خطاب کیا۔ انہوں نے خاندان، رشتہ دار، پڑوسی، عام مسلمان اور رفقائے تحریک کے درمیان کے تعلقات اسلامی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام رشتون کے ساتھ بہترین تعلقات کی بنیاد آخرت میں کامیابی کو پشی نظر رکھ کر کرنا چاہئے۔ والدین کی خدمت و اچھا سلوک، اولاد کی اسلامی خطوط پر اچھی پرورش، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا اور عام مسلمانوں میں سلام کو عام کرنا بہت اہم ہیں۔ ’ملت اسلامیہ کی منصبی ذمہ داریاں‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے محمد ضیاء اللہ ، ناظم ضلع جماعت اسلامی ہند ضلع گلبرگہ نے کہا کہ ملت مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئد کردہ منصبی ذمہ داری کو بھلا چکی ہے۔ جس کے نتیجہ میں اس کے سامنے جزوی مقاصد آگئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ان کی مقصد زندگی اور دیگر اقوام کی مقصد زندگی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ انہوں نے کہا کہ حامل قرآن ہونے والی اس امت کو اللہ تعالیٰ نے خیر امت قرآر دیتے ہوئے اس کو بھلائی کا حکم دینے اور برائیوں کودورکرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ محمد مظہر الدین ، ناظم شعبہ اسلامی معاشرہ نے اخبار دعوت کے مدیر محمد مسلمؒ کی زندگی پراظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس تحریک کے قائد کی زندگی ’میر ی زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی میں اسی لیے مسلماں ، اسی لیے نمازی‘ کی پیکر تھی۔ محمد مسلم کی زندگی کو سنتے ہوئے بہت سارے شرکاء اشکبار ہوئے۔ پروگرام کی کاروائی محمد ضیاء الحق اور محمد سلیم چیتاپوری نے چلائی۔ مرد و خواتین کہ بڑی تعداد اس اجتماع میں شریک رہی۔


Share: